Description:ہیں تو ہماری کچھ زمین تھل کے ریگستان میں بھی ہے۔ کبھی مارچ اپریل میں جانا ہو تو انسان کو یہ منظر جنت سے کچھ کم بھی نہیں لگتا کہ تاحدِ نگاہ بے آب و گیا صحرا کے عین درمیان ایک قطعہِ زمین جو انسان کی اناج کی ضرورت اپنے سینے کو سرسبز و شاداب کر کے پوری کر رہا ہے۔ شہاب نامہ تو خیر ایک پورا جہاں ہے لیکن شہاب نگر بھی قدرت اللہ شہاب کو پڑھنے اور سمجھنے والوں کیلئے بالکل اسی ریگستان کی طرح شادابی منظر، شعوری اناج اور چھائوں مہیا کر رہا ہے۔ میں نے شیما مجید صاحبہ کا نام بھی اسی کتاب کے توسط سے سنا اور ان کے کام کا انداز بھی یہیں سے پتا لگا۔ انتہائی احترام کے جذبات کے ساتھ شیما مجید صاحبہ کی خدمت میں سلام اور اس خوبصورت تصنیف کو ترتیب دینے پہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس کتاب کو مختلف حصوں میں انتہائی خوبصورت سے ترتیب دیا گیا ہے اور پڑھنے سے خیال کا تسلسل کسی بھی مقام پہ ٹوٹنے نہیں پاتا۔ اس کتاب کو مصنفہ نے پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں قدرت اللہ شہاب کے انٹرویوز، افسانے، مقالہ جات و مضامین، ڈرامہ اور باقی ادبی کام شامل ہے۔ اس کتاب کو دراصل اس نظر سے ترتیب دیا گیا ہے کہ قدرت اللہ شہاب کے ادبی کام کو ایک جگہ پہ یکجا کیا جا سکے اور ان کے مختلف رسالوں میں مطبوعہ افسانوں اور مضامین کو قارئین کے سامنے لایا جا سکے جو تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکے تھے۔ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی یاداشتوں کو ایک تاریخی ریفرنس کے طور پہ لکھا تھا اور اپنی مکمل بائیوگرافی کو اس تناظر میں دیکھا اور لکھا تھا کہ اس میں ذاتی احساس سے گریزاں رہتے ہوئے حقائق کی روشنی میں واقعات کو پیش کیا جائے۔ شہاب نگر اس لحاظ سے بھی ایک مختلف کتاب ہے کہ اس میں اکثر مقامات پہ قدرت اللہ شہاب کا اپنا ذاتی نقطہِ نظر پڑھنے کو ملتا ہے۔ ان کے انٹرویوز میں یہ بات بہت جگہوں پہ نظر آتی ہے کہ وہ بات کرتے کرتے کبھی تاریخ کی بے رحم ٹنل میں گر جاتے ہیں تو کہیں کہیں جذبات کے بے نشاں ریگزاروں میں ننگے پائوں چلتے نظر آتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے افسانوں کا مجموعہ جو کہ اس کتاب کا ایک اہم جزو ہے، ان کے شعوری ارتقاء کے سفر کا ایک بہت بڑا ریفرنس ہے۔ چندراوتی ہو یا پہلی تنخواہ یا پھر یا خدا، ان کے احساسات کی مکمل تفصیل اور ذاتی جدوجہد کی مکمل داستان کا ایک ایک باب ہے۔ افسانوں کی ایک اور خاص بات ان کا الگ اسلوب بھی ہے جو کہ انحرافی قسم کا ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات کو معاشرتی وضع کردہ حدود اور قواعد سے بہت ہٹ کر دیکھا ہے۔ جیسےچندراوتی کا پہلا جملہ “جب مجھے چندراوتی سے محبت شروع ہوئی تب اس کو مرے ہوئے تیسرا دن تھا” ۔ یہ اسلوب بذاتِ خود ایک ایجاد ہے جو کہ قدرت اللہ شہاب کے دم قدم سے ہے۔ قدرت اللہ شہاب کے مختلف اوقات میں پڑھے گئے مضامین، تقاریر، مقالہ جات اور باقی تحریروں کا بھی اس کتاب کے مواد میں بہت اہم کردار ہے۔ ان کے مضامین ایک سچے انسان، مسلمان، پاکستانی اور بیوروکریٹ کے قلم سے لکھے گئے ہیں۔ انسان کیلئے سب سے اہم اور سب سے مشکل کام اپنے احساسات کو کچھ حدود میں رہتے ہوئے قلم کے سپرد کر دینا ہوتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اس اہم کام کو انتہائی خوش اسلوبی اور حقائق کی روشنی میں لیے ہوئے آگے بڑھاتے ہیں تاکہ انسانی حدود و قواعد کی روشنی میں تمام مذاہب اور مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں کے دلوں تک اس بات کو پہنچایا جا سکے۔ کتاب کے آخر میں ایک فلم اور ایک تمثیل بھی شامل کی گئی ہے۔ یہ کشمیر کے تناظر میں لکھی گئی ہیں جو کہ ادبی سفر میں بڑا خوشگوار سا موڑ ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے خطوط بھی اس کتاب کا ایک حسین ٹانکا ہیں۔ دعا ہے کہ ہمیں اللہ پاک ایک صاحب کردار کی تاریخ اور ارتقاء کو پڑھنے، سمجھنے اور اس سفر کی روشنی میں ہمارے شعوری سفر میں بہتر راہنمائی فرمائیں۔ اللہ پاک ہم سب جو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزادWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Shahab Nagar / شہاب نگر. To get started finding Shahab Nagar / شہاب نگر, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.
Description: ہیں تو ہماری کچھ زمین تھل کے ریگستان میں بھی ہے۔ کبھی مارچ اپریل میں جانا ہو تو انسان کو یہ منظر جنت سے کچھ کم بھی نہیں لگتا کہ تاحدِ نگاہ بے آب و گیا صحرا کے عین درمیان ایک قطعہِ زمین جو انسان کی اناج کی ضرورت اپنے سینے کو سرسبز و شاداب کر کے پوری کر رہا ہے۔ شہاب نامہ تو خیر ایک پورا جہاں ہے لیکن شہاب نگر بھی قدرت اللہ شہاب کو پڑھنے اور سمجھنے والوں کیلئے بالکل اسی ریگستان کی طرح شادابی منظر، شعوری اناج اور چھائوں مہیا کر رہا ہے۔ میں نے شیما مجید صاحبہ کا نام بھی اسی کتاب کے توسط سے سنا اور ان کے کام کا انداز بھی یہیں سے پتا لگا۔ انتہائی احترام کے جذبات کے ساتھ شیما مجید صاحبہ کی خدمت میں سلام اور اس خوبصورت تصنیف کو ترتیب دینے پہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس کتاب کو مختلف حصوں میں انتہائی خوبصورت سے ترتیب دیا گیا ہے اور پڑھنے سے خیال کا تسلسل کسی بھی مقام پہ ٹوٹنے نہیں پاتا۔ اس کتاب کو مصنفہ نے پانچ بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ان میں قدرت اللہ شہاب کے انٹرویوز، افسانے، مقالہ جات و مضامین، ڈرامہ اور باقی ادبی کام شامل ہے۔ اس کتاب کو دراصل اس نظر سے ترتیب دیا گیا ہے کہ قدرت اللہ شہاب کے ادبی کام کو ایک جگہ پہ یکجا کیا جا سکے اور ان کے مختلف رسالوں میں مطبوعہ افسانوں اور مضامین کو قارئین کے سامنے لایا جا سکے جو تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکے تھے۔ شہاب نامہ میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی یاداشتوں کو ایک تاریخی ریفرنس کے طور پہ لکھا تھا اور اپنی مکمل بائیوگرافی کو اس تناظر میں دیکھا اور لکھا تھا کہ اس میں ذاتی احساس سے گریزاں رہتے ہوئے حقائق کی روشنی میں واقعات کو پیش کیا جائے۔ شہاب نگر اس لحاظ سے بھی ایک مختلف کتاب ہے کہ اس میں اکثر مقامات پہ قدرت اللہ شہاب کا اپنا ذاتی نقطہِ نظر پڑھنے کو ملتا ہے۔ ان کے انٹرویوز میں یہ بات بہت جگہوں پہ نظر آتی ہے کہ وہ بات کرتے کرتے کبھی تاریخ کی بے رحم ٹنل میں گر جاتے ہیں تو کہیں کہیں جذبات کے بے نشاں ریگزاروں میں ننگے پائوں چلتے نظر آتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے افسانوں کا مجموعہ جو کہ اس کتاب کا ایک اہم جزو ہے، ان کے شعوری ارتقاء کے سفر کا ایک بہت بڑا ریفرنس ہے۔ چندراوتی ہو یا پہلی تنخواہ یا پھر یا خدا، ان کے احساسات کی مکمل تفصیل اور ذاتی جدوجہد کی مکمل داستان کا ایک ایک باب ہے۔ افسانوں کی ایک اور خاص بات ان کا الگ اسلوب بھی ہے جو کہ انحرافی قسم کا ہے۔ انہوں نے اپنے مشاہدات کو معاشرتی وضع کردہ حدود اور قواعد سے بہت ہٹ کر دیکھا ہے۔ جیسےچندراوتی کا پہلا جملہ “جب مجھے چندراوتی سے محبت شروع ہوئی تب اس کو مرے ہوئے تیسرا دن تھا” ۔ یہ اسلوب بذاتِ خود ایک ایجاد ہے جو کہ قدرت اللہ شہاب کے دم قدم سے ہے۔ قدرت اللہ شہاب کے مختلف اوقات میں پڑھے گئے مضامین، تقاریر، مقالہ جات اور باقی تحریروں کا بھی اس کتاب کے مواد میں بہت اہم کردار ہے۔ ان کے مضامین ایک سچے انسان، مسلمان، پاکستانی اور بیوروکریٹ کے قلم سے لکھے گئے ہیں۔ انسان کیلئے سب سے اہم اور سب سے مشکل کام اپنے احساسات کو کچھ حدود میں رہتے ہوئے قلم کے سپرد کر دینا ہوتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اس اہم کام کو انتہائی خوش اسلوبی اور حقائق کی روشنی میں لیے ہوئے آگے بڑھاتے ہیں تاکہ انسانی حدود و قواعد کی روشنی میں تمام مذاہب اور مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں کے دلوں تک اس بات کو پہنچایا جا سکے۔ کتاب کے آخر میں ایک فلم اور ایک تمثیل بھی شامل کی گئی ہے۔ یہ کشمیر کے تناظر میں لکھی گئی ہیں جو کہ ادبی سفر میں بڑا خوشگوار سا موڑ ہیں۔ قدرت اللہ شہاب کے خطوط بھی اس کتاب کا ایک حسین ٹانکا ہیں۔ دعا ہے کہ ہمیں اللہ پاک ایک صاحب کردار کی تاریخ اور ارتقاء کو پڑھنے، سمجھنے اور اس سفر کی روشنی میں ہمارے شعوری سفر میں بہتر راہنمائی فرمائیں۔ اللہ پاک ہم سب جو مثبت رکھیں۔ آمین۔ بہزادWe have made it easy for you to find a PDF Ebooks without any digging. And by having access to our ebooks online or by storing it on your computer, you have convenient answers with Shahab Nagar / شہاب نگر. To get started finding Shahab Nagar / شہاب نگر, you are right to find our website which has a comprehensive collection of manuals listed. Our library is the biggest of these that have literally hundreds of thousands of different products represented.